regd

تصاوير

تعلیم

طلباء کا داخلہ (شرائط وضوابط ) اور جامعہ کی طرف سے دی جانے والی مراعات

  • جامعہ کاتعلیمی سال ۹ شوال المکرم کو شروع ہو کر ۱۱ شعبان المعظم کو ختم ہوگا ۔
  • جدید داخلوں کا سلسلہ ۹ شوال المکرم سے شروع ہوکر ۱۵ شوال المکرم تک رہتا ہے ۔
  • تمام شعبہ جات میں داخلہ ٹیسٹ کے بعد ہوگا ۔
  • شعبہ پرائمری میں داخلہ نہیں لیاجاتا ہے ۔
  • شعبہ درس نظامی میں داخلہ کے لئے سابقہ تعلیمی لیاقت کا تحریری ٹسٹ ہوگا ۔
  • شعبہ درس نظامی کا پہلا ٹسٹ ۱۱ شوال المکرم اور دوسرا ٹسٹ بشر ط گنجائش ۱۳ شوال المکرم کو منعقد کیاجاتا ہے ۔
  • ۱۶ شوال المکرم سے با قاعدہ تعلیم شروع ہوجاتی ہے ۔
  • جامعہ میں تعلیم ورہائش کی کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے ۔
  • درسی کتابیں طلبہ کو مفت مستعار دی جاتی ہیں جو کہ سالانہ امتحان کے بعد واپس لے لیجاتی ہیں ۔
  • طلبہ کے کھانے کاانتظام جامعہ کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔
  • داخلہ کے لئے طلبہ کا خود آکر ٹسٹ میں شرکت کرنا ضروری ہے ۔
  • درسی ایام ہفتہ تا جمعرات چھ ایام ہیں ہر ہفتہ میں جمعہ کے دن تعطیل رہتی ہے ۔
  • موسم سرما وقت تعلیم صبح آٹھ بجے سے ایک بجے دوپہر تک اور موسم گرما میں صبح سات سے دوپہر ۱۲ بجے تک رہتا ہے۔
  • ۱۵ روز متواتر بلا اجازت غیر حاضر رہنے پر طالب علم کا نام خارج کر دیا جاتا ہے ۔
  • طالب علم کے ہمراہ چند جوڑکپڑے،چادریں بستر مع ضرور سامان اور چند برتن پیالے ،پلیٹ،لوٹا ، وغیرہ کا ہونا ضروری ہے ۔
  • طالب علم کو نمازباجماعت کی پابندی ضروری ہے خلاف ورزی سخت مضر ہوگی ۔
  • طلبہ کا غیر شرعی وضع بنانا قابل مواخذہ جرم ہے خلاف ورزی پر خارجہ کیا جا سکتا ہے ۔
  • مسلک اہل سنت وجماعت یعنی مسلک اعلی حضرت سے کسی بھی قسم کی مخالفت قطعی برداشت نہیں کی جائیگی ۔
  • جامعہ کے اساتذہ ،ارکان اورناظم اعلیٰ صاحب وملازمین کی گستاخی ،حکم عدولی نا قابل معافی جرم ہے اور جامعہ سے خروج کا سبب ہوگا ۔
  • طالب علم کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ روزانہ اپنی تمام گھنٹیوں میں پابندی کے ساتھ حاضر رہے ۔
  • جامعہ کی تعطیلات اوراسکے علاوہ گھر جانے کی رخصت باختیار صدرالمدرسین صاحب ہے جو مناسب سمجھیں فیصلہ کریں ۔
  • جامعہ کے احاطہ میں ملٹی میڈیا موبائل رکھنے پر پاندی عائد ہے ،لہٰذا جس کے پاس پکڑا گیا ضبط کر لیا جائیگا اور سالانہ امتحان کے بعد واپس کیا جائیگا ۔
  • دار الاقامہ میں محبت واخوت اور بھائی چارگی کا ماحول بنائے رکھنا ضروری ہے ۔
  • طالب علم کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ جامعہ کی امدادکی طرف لوگوں کو متوجہ کرے تا کہ جامعہ بہتر سے بہتر طریقوں سے اپنے منصوبوں کو پورا کرسکے ۔
  • طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ طالب علم کی وضع میں رہیں کتاب اللہ اور سنت رسول اور اور اتباع سلف صالحین کو اپنا شعار بنائیں ۔

نظام تعلیم


الجامعۃ القادریہ کا نظام تعلیم بہت ٹھوس اور پر مغز ہے ، بایں طور کہ یہاں پر صرف رسمی طورپر طلبہ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا بلکہ علم و عمل دونوں پر زور دیا جاتا ہے اور اسلامی تربیت کے نور سے طلبہ کی روح وجان کو نکھارا اورسنوارا جاتا ہے یہاں طلبہ کو زندگی کے مفہوم اور معاشرے میں ایک مقبول وکامیاب لائق ستائش زندگی گزارنے کے گر سکھائے جاتے ہیں جس کے لئے اساتذہ جامعہ نے یہاں کے طلبہ کے لئے اصول وضوابط کے طور پر کچھ پابندیاں رکھی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔


  • نمازفجرکے بعد قرآن پاک کی تلاوت کا التزام ۔
  • سلام (ترانہ)میں تمام طلبہ کی شرکت کا التزام ۔
  • روزانہ بعدنمازعشاءتمام طلبہ کا حلقہ ذکر میں شریک ہونا۔
  • ہر جمعرات کو بعد نمازمغرب تمام طلبہ کاقصیدہ بردہ شریف پڑھنا۔
  • جماعت ثالثہ سے تمام طلبہ کااپنے تمام اوقات میں عربی بولنے کا التزام اور اپنی تمام چھٹی کی رخصتیں عربی زبان میں لکھنا۔
  • ہر جمعرات کو عربی اور اردو میں انجمن کا انعقاد کرنااور ان میں باہتمام شریک ہونا۔
  • اردو،عربی بزم میں تقریر کے لئے موضوع متیعن رہتےہیں ہرایک طالب علم اپنےموضوع پر ہی تقریرکرتاہےاور تمام طلبہ کا بزم میں حاضر ہونانیز جسکا نمبر ہو اسکو اپنی تمام ضروریات چھوڑ کر شرکت کرنا ضروری ہے۔
  • پندرہ دن کے اندر جامعہ کے استاذ کا 30 منٹ کسی خاص موضوع پر محاضرہ ہوتاہے جسکا اعلان ایک ہفتہ پہلے کیا جاتاہے کہ طلبہ اپنی پوری تیاری اور کاپی قلم کے ساتھ حاضر ہوکر فیضیاب ہوسکیں اور اہم اہم باتیں نوٹ کرسکیں۔محاضرے کے آخر 10 منٹ میں طلبہ کو اپنے ذہن میں محاضرے سے متعلق آئے سوالات کرنے کی اجازت ہوگی۔
  • ہر تین ماہ میں مدرسہ کی جانب سے ابتدائی قواعد کی کتابوں کے خاص ابواب متعین کرکے انکا امتحان منعقدکیا جائیگا جسمیں پورے مدرسہ میں اول ،دوم اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کو جامعہ کے صدرالمدسین کی جانب سے مفتی اعظم ہند ایوارڈ دیا جاتاہے۔
  • ششماہی ثانی کے ابتدائی مرحلہ میں تحریری ،تقریر ی انعامی مقابلہ ہوگا جسمیں طلبہ اپنی طبع آزمائی کرسکیں گے۔ ہرگروپ میں اول ،دوم ،سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو نیزہر ایک طالب علم کو ترغیبی انعام دیا جائیگا۔
  • درسگاہ میں بلا تخصیص طلبہ سے عبارت خوانی کرانا اور با غور سن کر ضروری اصلاح کرنا ۔
  • درس گاہ میں آموختہ کے سننے کےالتزام کے ساتھ مقدار کتب کی تکمیل کرنا ۔
  • مطالعہ کے بعد ہی طالب علم کا درس گاہ میں حاضر ہونا ۔
  • تمام طلبہ کو ایک ساتھ اساتذہ کرام کی موجودگی میں وقتا فوقتا وضوء کی ٹریننگ دینا۔
  • ہفتہ یا ۱۵ دن میں تمام طلبہ کو سارے اساتذہ کی نگرانی میں نماز کی عملی مشق کرانا اور انکے قیام وقعود ،رکوع وسجود اور سارے ارکان کی آدائیگی میں وجوب وسنت واستحباب وافضلیت کی رو رعایت کرنا ۔
  • بعدنمازعصرروزانہ ایک طالب علم سےطلبہ کوروز مرہ کے کچھ ضروری مسائل کی تلقین کرانا
  • بعدنماز ظہرتانمازعصر اساتذہ کرام کی نگرانی میں اسباق کی تکرار اور مطالعہ کتب میں مصروف رہنا ،اسی طرح بعدنماز مغرب تا ۱۲ بجے شب میں اپنے مشاغل درس میں منہمک رہنا ۔
  • ہفتہ میں ایک بار اجتماعی طورپر تمام طلبہ کی ذہن سازی کی جاتی ہے حصول علم کے گر سکھائے جاتے ہیں اور تعلیمی معاملہ میں انکو محنت ، جد وجہد اورکد وکاوش کرنے پر ابھارنا ۔
  • مقررہ نصاب کی تکمیل ضروری سمجھی جاتی ہے ابتدائی درجات اور فن کی کتابیں پوری پڑھائی جاتی ہیں تا کہ طالب علم اگلے درجہ کو با خوبی طے کر سکے ورنہ درمیان میں ہی دم توڑدیگا ۔

الجامعۃ القادریہ کے تعلیمی نظام پر ایک طائرانہ نظرڈالیں تو اسکی نمایاں خصوصیات واضح ہونگی بفضلہ تعالی یہاں پر کمیت سے زیادہ کیفیت پر زور دیا جاتا ہے سارے مدرسین اپنی اصلاحی فکرکےساتھ تربیت میں سر گرم عمل رہتے ہیں کہ طلبہ کو خوب سے خوب تر کی جانب کیسے بڑھایا جائے ۔



امتحانات


جامعہ طلبہ کی لیاقت وصلاحیت کو پرکھنے اور اسی کے مطابق آگے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے سال میں تین امتحانات منعقد کرتا ہے ۔

  1. سہ ماہی امتحان یہ امتحان ۱۱۔تا ۱۳ محرم الحرام کے درمیان منعقد ہوتا ہے یہ امتحان تحریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ عموما ایک ہفتہ میں آجاتا ہے ۔
  2. ششماہی امتحان یہ امتحان یکم ربیع الاول تا ۱۰ ربیع الاول کے درمیان منعقد ہوتا ہے اور یہ امتحان بھی تحریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ ربیع الاول شریف کے آخردنوں میں آجاتا ہے ۔
  3. سالانہ امتحان یہ امتحان یکم شعبان المعظم تا ۱۱ شعبان المعظم کے درمیان منعقد ہوتا ہے یہ امتحان تحریری وتقریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ امتحان ختم ہوتے ہی آجاتا ہے ۔

ان امتحانات کے علاوہ جامعہ میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے منشی ، مولوی، عالم ، کامل اور فاضل کے امتحانات بھی منعقد ہوتے ہیں ۔ نیز جامعہ وقتا فوقتا صرف، نحو اور منطق کے ابتدائی قواعد کے امتحانات بھی منعقد کراتا ہے تا کہ طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھا ر پیدا ہوتا رہے ۔



ڈگریاں واسناد


  • سند تحفیط القران الکریم ۔۔۔ تین سالہ کورس میں مکمل قرآن پاک یاد کرنے پر دی جاتی ہے
  • سند تجوید القرآن الکریم ۔۔۔ تین سالہ کورس میں قرآن کو بروایت حفص مکمل کرنے پر دی جاتی ہے
  • سند مولویت ۔۔۔ پانچ سالہ کورس میں ابتدائي علوم عربیہ وشرعیہ کی تحصیل پر دی جاتی ہے
  • سند عالمیت ۔۔۔ دو سالہ کورس میں علوم عربیہ وشرعیہ کی تحصیل پر دی جاتی ہے
  • سند فضیلت ۔۔۔ دو سالہ کو رس میں جملہ علوم عربیہ و شرعیہ کی تکمیل پر دی جاتی ہے
  • سند امامت وخطابت ۔۔ا یک سالہ کو رس میں طالب علم کو امامت وخطابت کی عملی مشق کرانے کے بعد دی جاتی ہے

اور اسکے علاوہ تخصصات کی اسناد جیسےتخصص فی الحدیث ،واصول حدیث ،دو سالہ تخصص فی التفسیر وعلومہ دو سالہ ،اور تخصص فی الادب العربی اور تخصص فی الفقہ الحنفی والافتاء دو سالہ اور تخصص فی تقابل ادیان وفرق اور تخصص سائنس و الکمپیوٹر وغیرہ کی اسناد بھی کورس کے مکمل کرنے پر طلبہ کو دی جاتی ہیں ۔ اور اسکے علاوہ اعلی حضرت ڈگری کالج اور رضا انٹر کالج کی جملہ اسناد کے کورسس مکمل کرنے پر دی جاتی ہے ۔اور ہمارے جامعہ مدرسہ تعلیمی بورڈ سے ملحق ہے ، لہذا اسکی جملہ اسناد ،۱۔ منشی ، مولوی (ہائی اسکول ) ۲۔ عالم عربی وفارسی (انٹر ) ۳۔ کامل عربی وفارسی (بی اے ) ۴۔ فاضل ( ایم اے ) وغیرہ امتحانات میں پاس کرنے پر دی جاتی ہیں ۔



انعامات وایوارڈس )


  • امام اعظم ایوارڈ۔ سالانہ امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو ناظم اعلیٰ صاحب کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔
  • غوث اعظم ایوارڈ ۔ ششماہی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو صدر المدرسین صاحب کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
  • خواجہ غریب نواز ایوارڈ ۔ سہ ماہی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو ڈائریکٹر صاحب کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔
  • امام احمد رضا ایوارڈ ۔تحریری وتقریری مقابلہ جاتی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو دیا جاتا ہے ۔
  • حضور مفتی اعظم ہند ایوارڈ ۔ ضمنی امتحانات میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو صدر المدرسین کی جانب سے دیا جاتا ہے ۔

اسکے علاوہ ہر کلاس میں اول ،دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی جامعہ کی طرف سے انعامات وشلڈ دی جاتی ہے ۔