regd

تصاوير

جامعۃ البنات برکات فاطمہ


الجامعۃ القادریہ دینی قلعہ اپنی تعلیمی ،تعمیری سرگرمیاں پوری بھی نہ کر پایا تھا کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں خصوصا اس علاقہ میں غیر مقلدیت وہابیت اور بد مذہبیت نے سیدھے سادے مسلمانوں کو ضلالت وگمراہی کے دام اور کفر والحاد کے جال میں پھسانے کے لئے یہ چال چلی کہ لڑکیوں کی تعلیم کے نام سے مختلف شیطانی اڈے قائم کئے جنکو جامعات وکلیات کے نام سے موسوم کیا ،انکی بالغ نظری تھی کہ ایک لڑکی صرف لڑکی ہی نہیں بلکہ وہ مستقبل کا پورا کنبہ ہے اگر بنام تعلیم ہم نے ان پر ذہنی کنٹرول کر لیا تو مستقبل میں پورا علاقہ ہمارا ہوگا اور سارا محاذ ہمارے حصہ میں ہوگا انکا یہ منصوبہ بند مشن جب مناظراہل سنت کو معلوم ہوا تو بیقرار ہوگئے اور خون کے آنسو پیکر رہ گئے ۔

آخر کار جب آپ سے قوم وملت کی خصوصا اہل سنت کی بھولی بھالی بچیوں کی ایمان سوزی وایمان فروشی نہ دیکھی گئی تو آپ نے عزم مصمم کر لیا کہ اب میں لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لئے ایک عظیم دانش گاہ بناکر رہونگا ،علماء اور رفقاءکے باہمی مشوروں کے بعد ایک ایکڑ سے زائد رقبہ میں علم وعمل کی ایک دانش گاہ کا سنگ بنیاد رکھا اور تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا ، ابھی کچھ بنیادیں ابھر کر آئیں تھی کہ ایک عالمی ،تعلیمی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ملک وملت کے دانشواران اور مقتدر مشائخ وعلماء شریک ہوئے جنہوں نے آپکے اس پیغام کو قبول کرتے ہوئے دل کی اتہاہ گہرائیوں سے سراہا اور تکمیل کی دعاؤں سے نوازا، انہین علماء ومشائخ کی دعاؤں کا اثر تھا کہ اگلے سال جب سالانہ اجلاس ہوا تو یہ دانش گاہ اپنے تعمیری مراحل سے گزر کر دختران اسلام کو با ضابطہ منظم طریقہ سے ’’ قال اللہ وقال الرسول ‘‘ کی درس دیتی ہوئی نظر آئی ، جس سے تمام قوم حیرت واستعجاب میں پڑ گئی اور یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ سب مناظر اہل سنت کی دینی لگن اور ملی تگ وود کا نتیجہ ۔

جامعۃ البنات برکات فاطمہ ۔

ایک دیدہ زیب پر شکوہ ،عالیشان عمارت ہے جو طالبات کے ۳۳ رہائیشی اور ۱۰ درس گاہی کمروں اور وسیع وعریض ڈائننگ ہال پر مشتمل ہے کلاس روموں کے مابین ایک وسیع وعریض میدان ہے جہاں پر طالبات خالی اوقات میں اپنے ذہنوں کو کیف وسرور ،فرحت وانبساط بخشی ہیں اس میں ایک آفس ملاقاتی روم اور عصری تقاضوں سے لیس کمپیوٹر سینٹر اور سلائی وکڑھائی کا حیرت انگیز انتظام ہےطالبات علم وفن کی ذہن سازی اور ایک ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے بہت بڑا نماز ہال ہے جس میں تقریبا ایک ساتھ پانچسو طالبات عبادت وریاضت کر سکتیں ہیں ۔ سال رواں میں تقریبا چار سو پچاس طالبات دینی وعصری علوم کی ماہرات ۱۵ معلمات کے زیر سایہ اپنی دینی وعلمی تشنگی بجھانے میں مصروف عمل ہیں.

طالبات کا داخلہ (شرائط وضوابط ) اور جامعہ کی طرف سے دی جانے والی مراعات

  • جامعہ کاتعلیمی سال ۹ شوال المکرم کو شروع ہو کر ۱۱ شعبان المعظم کو ختم ہوگا ۔
  • جدید داخلوں کا سلسلہ ۹ شوال المکرم سے شروع ہوکر ۱۵ شوال المکرم تک رہتا ہے ۔
  • تمام شعبہ جات میں داخلہ ٹیسٹ کے بعد ہوگا ۔
  • شعبہ پرائمری میں بھی داخلہ لیاجاتا ہے ۔
  • شعبہ درس نظامی میں داخلہ کے لئے سابقہ تعلیمی لیاقت کا تحریری ٹسٹ ہوگا ۔
  • شعبہ درس نظامی کا پہلا ٹسٹ ۱۱ شوال المکرم اور دوسرا ٹسٹ بشر ط گنجائش ۱۳ شوال المکرم کو منعقد کیاجاتا ہے ۔
  • ۱۶ شوال المکرم سے با قاعدہ تعلیم شروع ہوجاتی ہے ۔
  • جامعہ میں تعلیم ورہائش کی کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے ۔
  • درسی کتابیں طالبات کو مفت مستعار دی جاتی ہیں جو کہ سالانہ امتحان کے بعد واپس لے لیجاتی ہیں
  • طالبات کو دو وقت دوپہر اور شام کو مطبخ سے دال چاول روٹی ،گوشت ،اور سبزی وغیرہ پر مشتمل کھانا دیا جاتاہے اور صبح کو ناشتہ بھی دیا جاتا ہے۔
  • داخلہ کے لئے طالبات کا خود آکر ٹسٹ میں شرکت کرنا ضروری ہے ۔
  • درسی ایام ہفتہ تا جمعرات چھ یوم ہیں ہر ہفتہ میں جمعہ کے دن تعطیل رہیگی ۔
  • موسم سرما وقت تعلیم صبح آٹھ بجے سے ایک بجے دوپہر تک اور موسم گرما میں صبح سات سے دوپہر ۱۲ نجے تک ہوگا ۔
  • ۱۵ روز متواتر بلا اجازت غیر حاضر رہنے پر طالبہ کا نام خارج کر دیا جائیگا ۔
  • طالبہ کے ہمراہ چند جوڑکپڑے،چادریں بستر مع ضروری سامان اور چند برتن پیالے ،پلیٹ،لوٹا ، وغیرہ کا ہونا ضروری ہے ۔
  • طالبہ کو نماز کی پابندی ضروری ہے خلاف ورزی سخت مضر ہوگی ۔
  • طالبات کا غیر شرعی وضع بنانا قابل مواخذہ جرم ہے خلاف ورزی پر خارجہ کیا جا سکتا ہے ۔
  • مسلک اہل سنت وجماعت یعنی مسلک اعلی حضرت سے کسی بھی قسم کی مخالفت قطعی برداشت نہیں کی جائیگی۔
  • جامعہ کی معلمات و ملازمات اورناظم اعلیٰ صاحب کی گستاخی ،حکم عدولی نا قابل معافی جرم ہے اور جامعہ سے خروج کا سبب ہوگا ۔
  • طالبہ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ روزانہ اپنی تمام گھنٹیوں میں پابندی کے ساتھ حاضر رہے ۔
  • جامعہ کی تعطیلات کے علاوہ گھر جانے کی رخصت باختیار صدرالمعلمات صاحبہ ہے جو مناسب سمجھیں فیصلہ کریں ۔
  • جامعہ کے احاطہ میں موبائل رکھنے پر پاندی عائد ہے ،لہٰذا جس کے پاس پکڑا گیا ضبط کر لیا جائیگا اور کسی بھی صورت میں واپس نہیں کیا جائیگا ۔
  • دار الاقامہ میں محبت واخوت اور اسلامی ماحول بنائے رکھنا ضروری ہے ۔
  • طالبہ کو اپنا ID پروف اور 4 فوٹو (پاسپورٹ سائز) اور ملاقات کرنے والےمحارم کا ایک ایک فوٹو لانا ضروری ہے۔
  • طالبہ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ جامعہ کی امدادکی طرف اپنے گھر والوں اور عزیزواقارب کو متوجہ کرے تا کہ جامعہ بہتر سے بہتر طریقوں سے اپنے منصوبوں کو پورا کرسکے ۔
  • طالبات کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اسلامی وضع میں رہیں کتاب اللہ اور سنت رسول اور اتباع سلف صالحین و صالحات کو اپنا شعار بنائیں ۔

نظام تعلیم


جامعۃ البنات برکات فااطمہ کا نظام تعلیم بہت ہی ٹھوس اور پر مغز ہے بایں طور کہ یہاں پر صرف رسمی طورپر طالبات کو پڑھایا ہی نہیں جاتا بلکہ علم و عمل دونوں پر زور دیا جاتا ہے اور اسلامی تربیت کے نور سے طالبات کی روح وجان کو نکھارا جاتا ہے اورسنوارا جاتا ہے یہاں طالبات کو زندگی کے مفہوم اور معاشرے میں ایک مقبول وکامیاب لائق ستائش زندگی گزارنے کے گر سکھائے جاتے ہیں جس کے لئےمعلمات جامعہ نے یہاں کی طالبات کے لئے اصول وضوابط کے طور پر کچھ پابندیاں رکھی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

  • بعدنماز فجر قرآن پاک کی تلاوت کا التزام ۔
  • سلام میں تمام طالبات کی شرکت کا التزام ۔
  • روزانہ بعدنمازعشاءتمام طالبات کا حلقہ ذکر میں شریک ہونا۔
  • ہر جمعرات کو بعد نمازمغرب تمام طالبات کاقصیدہ بردہ شریف پڑھنا۔
  • جماعت ثالثہ سے تمام طالبات کااپنے تمام اوقات میں عربی بولنے کا التزام اور اپنی تمام چھٹی کی رخصتیں عربی زبان میں لکھنا۔
  • ہر جمعرات کو عربی اور اردو مین انجمن کا انعقاد کرنا۔
  • اردو،عربی بزم میں تقریر کے لئے موضوع متیعن ہوتےہیں ہرایک طالبہ اپنےموضوع پر ہی تقریرکرتی ہے اور تمام طالبات کا بزم میں حاضر ہونانیز جسکا نمبر ہو اسکا اپنی تمام ضروریات چھوڑ کر شرکت کرنا ضروری ہے۔
  • پندرہ دن کے اندر جامعہ کی معلمہ کا 30 منٹ کسی خاص موضوع پر محاضرہ ہوتاہے جسکا اعلان ایک ہفتہ پہلے کیا جاتاہےاور طالبات اپنی پوری تیاری اور کاپی قلم کے ساتھ حاضر ہوتی ہیں کہ فیضیاب ہوسکیں اور اہم اہم باتیں نوٹ کرسکیں۔محاضرے کے آخر 10 منٹ میں طالبات کو اپنے ذہن میں محاضرے سے متعلق آئے سوالات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
  • ہر تین ماہ میں جامعہ کی جانب سے ابتدائی قواعد کی کتابوں کے خاص ابواب متعین کرکے انکا امتحان منعقدکیا جاتا ہےجسمیں پورے جامعہ میں اول ،دوم اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو جامعہ کی صدرالمعلمات کی جانب سے مفتی اعظم ہند ایوارڈ دیا جاتاہے۔
  • ششماہی ثانی کے ابتدائی مرحلہ میں تحریری ،تقریر ی انعامی مقابلہ ہوگا جسمیں طالبات اپنی طبع آزمائی کرسکیں گیں۔ ہرگروپ میں اول ،دوم ،سوم پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو نیزہر ایک طالبہ کو ترغیبی انعام دیا جاتاہے۔
  • درسگاہ میں بلا تخصیص طالبات سے عبارت خوانی کرانا اور با غور سن کر ضروری اصلاح کرنا ۔
  • درس گاہ میں آموختہ کے سننے کےالتزام کے ساتھ مقدار کتب کی تکمیل کرنا ۔
  • مطالعہ کے بعد ہی طالبہ کا درس گاہ میں حاضر ہونا ۔
  • تمام طالبات کو ایک ساتھ معلمات کی موجودگی میں وقتا فوقتا وضوء کی ٹریننگ دینا۔
  • ہفتہ یا ۱۵ دن میں تمام طالبات کو ساری معلمات کی نگرانی میں نماز کی عملی مشق کرانا اور انکے قیام وقعود،رکوع وسجود اور سارے ارکان کی آدائیگی میں وجوب وسنت واستحباب وافضلیت کی رو رعایت کرنا ۔
  • عصر بعد روزانہ ایک طالبہ سے طالبات کوروز مرہ کے کچھ ضروری مسائل کی تلقین کرانا ۔
  • نماز ظہر کے بعدسےعصر تک معلمات کی نگرانی میں اسباق کی تکرار اور مطالعہ کتب میں مصروف رہنا ،اسی طرح بعدنماز مغرب تا ۱۲ بجے شب میں اپنے مشاغل درس میں منہمک رہنا ۔
  • ہفتہ میں ایک بار اجتماعی طورپر تمام طالبات کی ذہن سازی کی جاتی ہے حصول علم کے گر سکھائے جاتے ہیں ۔ اور تعلیمی معاملہ میں انکو محنت ، جد وجہد ،کد وکاوش کرنے پر ابھارنا ۔
  • مقررہ نصاب کی تکمیل ضروری سمجھی جاتی ہے ابتدائی درجات اور فن کی کتابیں پوری پڑھائی جاتی ہیں تا کہ طالبات اگلے درجہ کو با خوبی طے کر سکے ورنہ درمیان میں ہی دم توڑدیگی ۔

جامعہ کے تعلیمی نظام پر ایک طائرانہ نظرڈالیں تو اسکی نمایاں خصوصیات واضح ہونگی ، بفضلہ تعالی یہاں پر کمیت سے زیادہ کیفیت پر زور دیا جاتا ہے ساری معلمات اپنی فکراور تربیت گاہوں میں سر گرم عمل رہتی ہیں کہ ہم طالبات کو خوب سے خوب تر کی جانب کیسے بڑھایاجائے ۔


امتحانات


جامعہ طالبات کی لیاقت وصلاحیت کو پرکھنے اور اسی کے مطابق آگے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے سال میں تین امتحانات منعقد کرتا ہے ۔

  • سہ ماہی امتحان ،یہ امتحان ۱۱۔تا ۱۳ محرم الحرام کے درمیان منعقد ہوتا ہے یہ امتحان تحریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ عموما ایک ہفتہ میں آجاتا ہے ۔
  • ششماہی امتحان ۔ یہ امتحان یکم ربیع الاول تا ۱۰ ربیع الاول کے درمیان منعقد ہوتا ہے اور یہ امتحان بھی تحریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ آخر ربیع الاول شریف کے آخر میں آجاتا ہے ۔
  • سالانہ امتحان ۔ یہ امتحان یکم شعبان المعظم تا ۱۱ شعبان المعظم کے درمیان منعقد ہوتا ہے یہ امتحان تحریری وتقریری ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ امتحان ختم ہوتے ہی آجاتا ہے ۔

ان امتحانات کے علاوہ جامعہ میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے منشی ، مولوی، عالم ، کامل اور فاضل کے امتحانات بھی منعقد ہوتے ہیں ۔ نیز جامعہ وقتا فوقتا صرف، نحو اور منطق کے ابتدائی قواعد کے امتحانات بھی منعقد کراتا ہے تا کہ طالبات کی صلاحیتوں میں نکھا ر پیدا ہوتا رہے ۔


ڈگریاں واسناد


  • سند تجوید القرآن الکریم ۔۔۔ تین سالہ کورس میں قرآن کو بروایت حفص مکمل کرنے پر دی جاتی ہے
  • سند مولویت ۔۔۔ چار سالہ کورس میں ابتداءی علوم عربیہ وابتداءی علوم شرعیہ کی تحصیل پر دی جاتی ہے
  • سند عالمیت ۔۔۔ دو سالہ کورس میں علوم عربیہ وعلوم شرعیہ کی تحصیل پر دی جاتی ہے
  • سند خطابت وتبلیغ۔ا یک سالہ کو رس میں طالبہ کو خطابت وتبلیغ کی عملی مشق کرانے کے بعد دی جاتی ہے

اور اسکے علاوہ تخصصات کی اسناد جیسےتخصص فی الحدیث ،واصول حدیث ،دو سالہ تخصص فی التفسیر وعلومہ دو سالہ ،اور تخصص فی الادب العربی اور تخصص فی الفقہ الحنفی والافتاء دو سالہ اور تخصص فی تقابل ادیان وفرق اور تخصص سائنس و الکمپیوٹر وغیرہ کی اسناد بھی کورس کے مکمل کرنے پر طلبہ کو دی جاتی ہیں ۔ اور اسکے علاوہ اعلی حضرت ڈگری کالج اور رضا انٹر کالج کی جملہ اسناد کے کورسس مکمل کرنے پر دی جاتی ہے ۔اور ہمارے جامعہ مدرسہ تعلیمی بورڈ سے ملحق ہے ، لہذا اسکی جملہ اسناد ،۱۔ منشی ، مولوی (ہائی اسکول ) ۲۔ عالم عربی وفارسی (انٹر ) ۳۔ کامل عربی وفارسی (بی اے ) ۴۔ فاضل ( ایم اے ) وغیرہ امتحانات میں پاس کرنے پر دی جاتی ہیں ۔


انعامات وایوارڈس


  • امام اعظم ایوارڈ۔ سالانہ امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو ناظم اعلیٰ صاحب کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔
  • غوث اعظم ایوارڈ ۔ ششماہی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو صدر المعلمات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
  • خواجہ غریب نواز ایوارڈ ۔ سہ ماہی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو ڈائریکٹر صاحب کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔
  • امام احمد رضا ایوارڈ ۔تحریری وتقریری مقابلہ جاتی امتحان میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو جامعہ کی جانب سے دیا جاتا ہے ۔
  • حضور مفتی اعظم ہند ایوارڈ ۔ ضمنی امتحانات میں پورے جامعہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو صدر المعلمات کی جانب سے دیا جاتا ہے ۔

اسکے علاوہ ہر کلاس میں اول ،دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو بھی جامعہ کی طرف سے انعامات وشلڈ دی جاتی ہے ۔